المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَحْزَابِ باب: سورۃ الاحزاب۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ بَجَالَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ : وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مُصْحَفًا فِي حِجْرِ غُلَامٍ لَهُ ، فِيهِ : ( النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ) ، فَقَالَ : احْكُكْهَا يَا غُلَامُ ، فَقَالَ : لَا أَحُكُّهَا ، وَهِيَ فِي مُصْحَفِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَانْطَلَقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : شَغَلَنِي الْقُرْآنُ ، وَشَغَلَكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ إِذْ تَعْرِضُ رَحَاكَ عَلَى عُنُقِكَ بِبَابِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ .بجالہ تمیمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کی گود میں قرآن مجید کا ایک نسخہ (مصحف) دیکھا جس میں یہ مرقوم تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”نبی مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق و اختیار رکھتے ہیں اور وہ ان کے باپ ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اس میں موجود اضافی کلمات دیکھ کر) فرمایا: ”اے لڑکے! اسے مٹا دو۔“ اس نے جواب دیا: ”میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا کیونکہ یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں بھی اسی طرح درج ہے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (اس کی تصدیق کے لیے) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے (برجستہ) جواب دیا: ”مجھے قرآن کریم کے حفظ و درس نے مشغول رکھا جبکہ تمہیں بازاروں میں لین دین اور تجارت نے مصروف کر رکھا تھا، جب تم ابن عجماء کے دروازے پر اپنی گردن پر اپنی چکی (کا بوجھ) لادے پھرتے تھے۔“
یہ اسناد امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔