قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَاسْمُهُ عَبْثَرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ سُئِلَ عَنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَرَدَّدَهَا سَاعَةً حِينَ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّهَا أُنْزِلَتْ مِنْ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے فاتحۃ الکتاب (سورہ فاتحہ) کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہمیں اللہ کے نبی ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی“، پھر (رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کرتے ہی) ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کا ذکرِ خیر کیا تو وہ ایک گھڑی (کچھ دیر) تک اسی کیفیت کو دہراتے رہے، پھر فرمایا: ”بے شک یہ (سورہ فاتحہ) عرش کے نیچے موجود ایک خاص خزانے سے نازل کی گئی ہے۔“
[مسند الحارث (بغية الباحث): 3515]
[مسند الحارث (بغية الباحث): 3515]
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : السَّبْعُ الْمَثَانِي فَاتِحَةُ الْكِتَابِ
3517 - قَالَ يُونُسُ : وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا .
3517 - قَالَ يُونُسُ : وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (قرآنِ کریم کی اصطلاح کے متعلق) فرمایا: ”﴿السَّبْعُ الْمَثَانِي﴾ [سورة الحجر: 87] سے مراد فاتحۃ الکتاب (سورہ فاتحہ) ہے۔“
یونس بیان کرتے ہیں کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
یونس بیان کرتے ہیں کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا.
ترجمہ
یونس کہتے ہیں: اور حسن (بصری رحمہ اللہ) بھی یہی کہا کرتے تھے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ ابْنِ كُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا صَلَّى لَحِقَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ فَقَالَ : " أَرْجُو أَلَّا تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَهَا " . قَالَ : فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ رَجَاءَ أَنْ يَذْكُرَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : الَّذِي وَعَدْتَنِي يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقْرَأُ إِذَا اسْتَفْتَحْتَ الصَّلَاةَ ؟ " فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِ السُّورَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ "
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
وَلَكِنِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى الْعَلَاءِ فَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ
3518 \ 2 - وَرَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ اللهِ عَنْهُ قَالَ : فَذَكَرَهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ .
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
وَلَكِنِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى الْعَلَاءِ فَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ
3518 \ 2 - وَرَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ اللهِ عَنْهُ قَالَ : فَذَكَرَهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ .
ترجمہ
عامر بن کریز کے مولیٰ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو پکارا جبکہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کی طرف التفات کیا، پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں تھاما اور فرمایا: ”مجھے قوی امید ہے کہ تم مسجد سے اس وقت تک نہیں نکلو گے جب تک تم ایسی سورت نہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی عظمت والی کوئی سورت نہ تو تورات میں نازل فرمائی ہے اور نہ ہی انجیل میں۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (رخصت ہوتے وقت) جان بوجھ کر آہستہ چلنے لگا اس امید میں کہ آپ ﷺ اس بات کا تذکرہ فرمائیں گے، چنانچہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”جب تم نماز شروع کرتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] یہاں تک کہ میں نے سورت مکمل کر لی، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی وہ سبع مثانی (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات) اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں علاء نامی راوی پر اختلاف ہوا ہے؛ چنانچہ دراوردی نے اسے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
نیز اسے عبد الحمید بن جعفر نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے مذکورہ بالا واقعہ ذکر کیا۔
اسے امام ابن حبان اور امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں علاء نامی راوی پر اختلاف ہوا ہے؛ چنانچہ دراوردی نے اسے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
نیز اسے عبد الحمید بن جعفر نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے مذکورہ بالا واقعہ ذکر کیا۔
اسے امام ابن حبان اور امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاتِحَةُ الْكِتَابِ تُعْدَلُ بِثُلُثَيِ الْقُرْآنِ "
قُلْتُ : أَبَانُ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، مَتْرُوكٌ .
قُلْتُ : أَبَانُ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، مَتْرُوكٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سورہ فاتحہ قرآنِ حکیم کے دو تہائی حصے کے برابر قرار دی گئی ہے۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں: اس کی سند میں مذکور ابان دراصل ابان الرقاشی ہے اور وہ (محدثین کے نزدیک) متروک راوی ہے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں: اس کی سند میں مذکور ابان دراصل ابان الرقاشی ہے اور وہ (محدثین کے نزدیک) متروک راوی ہے۔