المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ سورة الفاتحة باب: سورہ فاتحہ کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ ابْنِ كُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا صَلَّى لَحِقَهُ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ فَقَالَ : " أَرْجُو أَلَّا تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَهَا " . قَالَ : فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ رَجَاءَ أَنْ يَذْكُرَ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : الَّذِي وَعَدْتَنِي يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقْرَأُ إِذَا اسْتَفْتَحْتَ الصَّلَاةَ ؟ " فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِ السُّورَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ "
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ
وَلَكِنِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى الْعَلَاءِ فَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ
3518 \ 2 - وَرَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ اللهِ عَنْهُ قَالَ : فَذَكَرَهُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ .عامر بن کریز کے مولیٰ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو پکارا جبکہ وہ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کی طرف التفات کیا، پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں تھاما اور فرمایا: ”مجھے قوی امید ہے کہ تم مسجد سے اس وقت تک نہیں نکلو گے جب تک تم ایسی سورت نہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی عظمت والی کوئی سورت نہ تو تورات میں نازل فرمائی ہے اور نہ ہی انجیل میں۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (رخصت ہوتے وقت) جان بوجھ کر آہستہ چلنے لگا اس امید میں کہ آپ ﷺ اس بات کا تذکرہ فرمائیں گے، چنانچہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”جب تم نماز شروع کرتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] یہاں تک کہ میں نے سورت مکمل کر لی، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہی وہ سبع مثانی (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات) اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں علاء نامی راوی پر اختلاف ہوا ہے؛ چنانچہ دراوردی نے اسے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
نیز اسے عبد الحمید بن جعفر نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے مذکورہ بالا واقعہ ذکر کیا۔
اسے امام ابن حبان اور امام حاکم نے روایت کیا ہے۔