کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: قرآن مجید کتنے دنوں میں (مکمل) پڑھا جائے، اس کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : " إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ . "
ترجمہ
ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تین دن سے کم مدت میں قرآنِ کریم کی تلاوت نہیں فرمایا کرتے تھے۔“
اس اثر کی سند جید ہے اور اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند جید ہے اور اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ فِي رَمَضَانَ فِي ثَلَاثٍ .
ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (عام ایام میں) ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (ہفتے میں ایک بار) قرآنِ کریم کا ختم مکمل کیا کرتے تھے، اور جب رمضان المبارک کا مہینہ ہوتا تو آپ رضی اللہ عنہ ہر تین دن میں ایک مرتبہ قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے ”المصنف“ (3510) میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے ”المصنف“ (3510) میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ : " إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ ، وَقَلَّمَا كَانَ يَأْخُذُ مِنْهُ بِالنَّهَارِ " .
ترجمہ
ابو عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”بے شک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر تین دن میں ایک مرتبہ مکمل قرآنِ مجید کی تلاوت فرما کر اسے ختم کر لیا کرتے تھے، اور وہ دن کے اوقات میں تلاوتِ قرآن کے لیے بہت کم وقت نکالا کرتے تھے۔“
اسے ابن ابی عمر نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اسے ابن ابی عمر نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔