قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُنِيبٍ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجِنَّ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ ؛ صِنْفٌ حَيَّاتٌ وَعَقَارِبُ وَخَشَاشُ الْأَرْضِ ، وَصِنْفٌ كَالرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ ، وَصِنْفٌ عَلَيْهِمُ الْحِسَابُ وَالْعِقَابُ .
وَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنْسَ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ : صِنْفٌ كَالْبَهَائِمِ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا الْآيَةَ .
وَصِنْفٌ أَجْسَادُهُمْ أَجْسَادُ بَنِي آدَمَ وَأَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الشَّيَاطِينِ ، وَصِنْفٌ فِي ظِلِّ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " .
وَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنْسَ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ : صِنْفٌ كَالْبَهَائِمِ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا الْآيَةَ .
وَصِنْفٌ أَجْسَادُهُمْ أَجْسَادُ بَنِي آدَمَ وَأَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الشَّيَاطِينِ ، وَصِنْفٌ فِي ظِلِّ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " .
ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جنات کی تین اقسام پیدا فرمائی ہیں؛ ایک قسم سانپوں، بچھوؤں اور زمین کے حشرات الارض (کیڑے مکوڑوں) پر مشتمل ہے، ایک قسم ہوا میں اڑنے والی ہوا جیسی ہے، اور ایک قسم وہ ہے جن پر حساب اور عذاب (و ثواب) لازم ہے۔
اور اللہ عزوجل نے انسانوں کی بھی تین قسمیں پیدا فرمائی ہیں: ایک قسم چوپایوں کی مانند ہے، جن کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا﴾ [سورة الأعراف: 179] یعنی ”ان کے دل تو ہیں مگر وہ ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں“۔
اور ایک قسم وہ ہے جن کے اجسام تو اولادِ آدم جیسے ہیں مگر ان کی روحیں شیاطین جیسی ہیں، اور ایک قسم وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے (عرش کے) سائے تلے ہوں گے جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔
اور اللہ عزوجل نے انسانوں کی بھی تین قسمیں پیدا فرمائی ہیں: ایک قسم چوپایوں کی مانند ہے، جن کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا﴾ [سورة الأعراف: 179] یعنی ”ان کے دل تو ہیں مگر وہ ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں“۔
اور ایک قسم وہ ہے جن کے اجسام تو اولادِ آدم جیسے ہیں مگر ان کی روحیں شیاطین جیسی ہیں، اور ایک قسم وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے (عرش کے) سائے تلے ہوں گے جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجِنَّ عَلَى ثَلَاثَةِ أَثْلَاثٍ : ثُلُثٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ ، وَثُلُثٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ ، وَثُلُثٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ " .
ترجمہ
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنات کو تین گروہوں میں پیدا فرمایا ہے: ایک تہائی وہ ہیں جن کے پر ہیں اور وہ فضا میں اڑتے ہیں، ایک تہائی سانپوں اور کتوں کی شکل میں ہیں، اور ایک تہائی وہ ہیں جو (انسانوں کی طرح بستیوں میں) پڑاؤ ڈالتے ہیں اور نقل مکانی کرتے ہیں۔“
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کو امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
( 138 ) تَقَدَّمَتْ فِي بَابِ عَظَمَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ
یہ احادیث پیچھے «باب عظمة الله عز وجل» (اللہ عزوجل کی عظمت و جلال کا بیان) میں گزر چکی ہیں۔