المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ الجن باب: جنات کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُنِيبٍ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجِنَّ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ ؛ صِنْفٌ حَيَّاتٌ وَعَقَارِبُ وَخَشَاشُ الْأَرْضِ ، وَصِنْفٌ كَالرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ ، وَصِنْفٌ عَلَيْهِمُ الْحِسَابُ وَالْعِقَابُ .
وَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنْسَ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ : صِنْفٌ كَالْبَهَائِمِ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا الْآيَةَ .
وَصِنْفٌ أَجْسَادُهُمْ أَجْسَادُ بَنِي آدَمَ وَأَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الشَّيَاطِينِ ، وَصِنْفٌ فِي ظِلِّ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جنات کی تین اقسام پیدا فرمائی ہیں؛ ایک قسم سانپوں، بچھوؤں اور زمین کے حشرات الارض (کیڑے مکوڑوں) پر مشتمل ہے، ایک قسم ہوا میں اڑنے والی ہوا جیسی ہے، اور ایک قسم وہ ہے جن پر حساب اور عذاب (و ثواب) لازم ہے۔
اور اللہ عزوجل نے انسانوں کی بھی تین قسمیں پیدا فرمائی ہیں: ایک قسم چوپایوں کی مانند ہے، جن کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا﴾ [سورة الأعراف: 179] یعنی ”ان کے دل تو ہیں مگر وہ ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں“۔
اور ایک قسم وہ ہے جن کے اجسام تو اولادِ آدم جیسے ہیں مگر ان کی روحیں شیاطین جیسی ہیں، اور ایک قسم وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے (عرش کے) سائے تلے ہوں گے جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔