❮
❯
حدیث نمبر: 3437
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُنِيبٍ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْجِنَّ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ ؛ صِنْفٌ حَيَّاتٌ وَعَقَارِبُ وَخَشَاشُ الْأَرْضِ ، وَصِنْفٌ كَالرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ ، وَصِنْفٌ عَلَيْهِمُ الْحِسَابُ وَالْعِقَابُ .
وَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنْسَ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ : صِنْفٌ كَالْبَهَائِمِ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا الْآيَةَ .
وَصِنْفٌ أَجْسَادُهُمْ أَجْسَادُ بَنِي آدَمَ وَأَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الشَّيَاطِينِ ، وَصِنْفٌ فِي ظِلِّ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " .
ترجمہ

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جنات کی تین اقسام پیدا فرمائی ہیں؛ ایک قسم سانپوں، بچھوؤں اور زمین کے حشرات الارض (کیڑے مکوڑوں) پر مشتمل ہے، ایک قسم ہوا میں اڑنے والی ہوا جیسی ہے، اور ایک قسم وہ ہے جن پر حساب اور عذاب (و ثواب) لازم ہے۔
اور اللہ عزوجل نے انسانوں کی بھی تین قسمیں پیدا فرمائی ہیں: ایک قسم چوپایوں کی مانند ہے، جن کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا﴾ [سورة الأعراف: 179] یعنی ”ان کے دل تو ہیں مگر وہ ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں“۔
اور ایک قسم وہ ہے جن کے اجسام تو اولادِ آدم جیسے ہیں مگر ان کی روحیں شیاطین جیسی ہیں، اور ایک قسم وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے (عرش کے) سائے تلے ہوں گے جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب بدء الخلق / حدیث: 3437
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد واهٍ بمرة فيه علل: ، 1 - الحسين بن علي يسرق الحديث وكفى بها علة، إلَّا أنه لم يتفرد به كما سترى.، 2 - يزيد الرهاوي: ضعيف الحديث.، 3 - أبو المنيب مجهول. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»