المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ الملائكة عَلَيْهِمْ السلام باب: فرشتوں علیہم السلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 3436
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ ( مَلَكٍ ) قَدْ مَرَقَتْ رِجْلَاهُ ( الْأَرْضَ ) السَّابِعَةَ وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبِهِ ، يَقُولُ : سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ "
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) ایک ایسے فرشتے کے متعلق بیان کرنے کی اجازت عطا کی گئی ہے جس کے دونوں پاؤں ساتویں زمین کو چیر کر پار کر گئے ہیں اور عرشِ الٰہی اس کے کندھے پر ہے، وہ (فرشتہ ہمہ وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہوئے) عرض کرتا ہے: «سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ» ”پاک ہے تیری ذات! تو (اپنی جلالت و شان میں) پہلے کہاں تھا اور آئندہ کہاں ہوگا (یعنی تیری عظمت و رفعت ہر حد اور قیدِ مکاں سے بالا تر ہے)۔“
صحیح ہے۔