المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب بدء الخلق— تخلیقِ کائنات کے آغاز کا بیان۔
بَابُ الحجب الَّتِي دُونَ اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حائل ہونے والے حجابات اور پردوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3440
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دُونَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ وَظُلْمَةٍ ، وَمَا تَسْمَعُ نَفْسٌ شَيْئًا مِنْ حِسِّ تِلْكَ الْحُجُبِ إِلَّا زَهَقَتْ نَفْسُهَا " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہِ قدس کے سامنے نور اور تاریکی کے ستر ہزار حجابات (پردے) حائل ہیں، اور کوئی بھی جاندار ایسا نہیں ہے جو ان پردوں کی ذرا سی آہٹ یا ان کی کسی بھی قسم کی حس کو سماعت کرے مگر یہ کہ اس کی روح پرواز کر جائے (یعنی وہ ان کے رعب و جلال کی تاب نہ لاتے ہوئے فوراً ہلاک ہو جائے)۔“
تخریج: مسند أبی یعلیٰ: 3459، اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی نامی راوی ضعیف ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔