کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار کی فضیلت و برتری کا بیان۔
❮
❯
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ أُجَالِسَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ دِيَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ ( اثْنَيْ ) عَشَرَ أَلْفًا ، فَحَسَبْنَا دِيَاتِهِمْ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسٍ فَبَلَغَ سِتَّةً وَتِسْعِينَ أَلْفًا ، وَهَا هُنَا مَنْ يَقُولُ : أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَاللهِ مَا قَالَ إِلَّا ثَمَانِيَةً ، دِيَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " .
3396 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ( بَعْدَ الْعَصْرِ ) حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ) .
3396 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : لَأَنْ أُصَلِّيَ الْفَجْرَ وَأَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ وَأَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ( أَنْ ) أُعْتِقَ ثَمَانِيَةَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، دِيَةُ كُلِّ رَقَبَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا .
3396 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ - فَرَّقَهُمَا - قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ) .
3396 \ 5 - حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( لَأَنْ أَجْلِسَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ) .
3396 \ 6 - وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، بِهَذَا نَحْوَهُ وَزَادَ : كُلُّهُمْ مُسْلِمٍ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا جو نمازِ فجر سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول رہتے ہوں، مجھے ان تمام دنیاوی نعمتوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے، اور میرا عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا، مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آٹھ غلام آزاد کروں، جن میں سے ہر ایک کی دیت بارہ ہزار (درہم یا دینار) ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے ان کی دیتوں کا حساب کیا تو وہ چھیانوے ہزار بنی، اور یہاں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو (آٹھ کے بجائے) اولادِ اسماعیل سے چار غلاموں کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے آٹھ ہی کا لفظ ارشاد فرمایا تھا جن میں سے ہر ایک کی دیت بارہ ہزار تھی۔
امام طیالسی نے اسے یزید بن ابان الرقاشی کے واسطے سے نقل کیا ہے۔
احمد بن منیع نے حماد کے طریق سے یزید الرقاشی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا فجر کی نماز کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا، مجھے اولادِ اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے، اور میرا عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا، مجھے اولادِ اسماعیل میں سے آٹھ جانیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“
حارث نے یزید الرقاشی ہی کے واسطے سے ان الفاظ میں روایت نقل کی ہے: ”میرا فجر کی نماز ادا کر کے سورج نکلنے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا، مجھے ان تمام اشیاء سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اور میرا عصر کی نماز ادا کر کے غروبِ آفتاب تک اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والوں کے ہمراہ بیٹھنا، مجھے اولادِ اسماعیل میں سے آٹھ غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، جبکہ ہر غلام کی دیت بارہ ہزار ہو۔“
ابو یعلیٰ نے حماد بن زید کے واسطے سے یزید الرقاشی سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا صبح سے لے کر طلوعِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے گروہ کے ساتھ بیٹھنا، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“
ابو یعلیٰ ہی کی دوسری روایت میں معلی بن زیاد کے واسطے سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نمازِ عصر سے لے کر غروبِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا، مجھے اولادِ اسماعیل میں سے آٹھ غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔“
خلف بن ہشام نے حماد کے واسطے سے اسی کی مثل روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ سب (آزاد کردہ غلام) مسلمان ہوں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3396
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 3667، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6019، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16944، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2418، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7244، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 3907، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6043/3، 6043/2، 6075، 6043/8، 6076، 6043/5»
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا ( الطَّيِّبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ) ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ أَوْ قَالَ الْغَدَاةَ ، فَقَعَدَ مَقْعَدَهُ فَلَمْ يَلْغُ شَيْء مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا ، وَيَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، لَا ذَنْبَ لَهُ ) .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے فجر کی نماز (یا آپ ﷺ نے صبح کی نماز کے الفاظ کہے) ادا کی، پھر وہ اپنی اسی جگہ پر بیٹھا رہا اور دنیاوی امور میں سے کسی لغو یا فضول بات میں مشغول نہ ہوا، بلکہ مسلسل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھ لیں، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے وہ اس دن (بے گناہ) تھا جس دن اسے اس کی ماں نے جنا تھا، اس کے ذمے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“
مسند ابی یعلیٰ: 4381، المعجم الاوسط للطبرانی: 7714؛ اس کی سند میں موجود راوی طیب بن سلمان ضعیف ہے، تاہم فضائلِ اعمال میں ایسی احادیث نقل کی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3397
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده ضعيف لجهالة عمرة بنت أرطاة، وهذا الحديث حسنه البوصيري. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16941، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1771، 6073»