المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ باب: نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار کی فضیلت و برتری کا بیان۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا ( الطَّيِّبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ) ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ( مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ أَوْ قَالَ الْغَدَاةَ ، فَقَعَدَ مَقْعَدَهُ فَلَمْ يَلْغُ شَيْء مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا ، وَيَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، لَا ذَنْبَ لَهُ ) .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے فجر کی نماز (یا آپ ﷺ نے صبح کی نماز کے الفاظ کہے) ادا کی، پھر وہ اپنی اسی جگہ پر بیٹھا رہا اور دنیاوی امور میں سے کسی لغو یا فضول بات میں مشغول نہ ہوا، بلکہ مسلسل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھ لیں، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے وہ اس دن (بے گناہ) تھا جس دن اسے اس کی ماں نے جنا تھا، اس کے ذمے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“
مسند ابی یعلیٰ: 4381، المعجم الاوسط للطبرانی: 7714؛ اس کی سند میں موجود راوی طیب بن سلمان ضعیف ہے، تاہم فضائلِ اعمال میں ایسی احادیث نقل کی جاتی ہیں۔