المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الذِّكْرِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز کے دوران کیے جانے والے اذکار اور تسبیحات کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ( بْنُ حَمَّادٍ ) ثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَيَقُولُ فِيهِنَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَعَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَجْهُكَ أَعْظَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَاهَا ، ( تُطَاعُ ) رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، ( وَتُعْصَى ) رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَ ( تُجِيبُ ) الْمُضْطَرَّ ، ( وَتَكْشِفُ ) الْغَمَّ ، وَ ( تَشْفِي ) السَّقِيمَ ، ( وَتَغْفِرُ ) الذَّنْبَ ، ( وَتَقْبَلُ ) التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مَدْحَكَ قَوْلُ قَائِلٍ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص ہمت کر کے چار رکعت نماز ادا نہیں کر سکتا اور ان میں وہ کلمات کہے جو رسول اللہ ﷺ کہا کرتے تھے: «تَمَّ نُورُكَ فَهَدَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَعَظُمَ حِلْمُكَ فَعَفَوْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَبَسَطْتَ يَدَكَ فَأَعْطَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ ، وَجْهُكَ أَعْظَمُ الْوُجُوهِ ، وَجَاهُكَ أَعْظَمُ الْجَاهِ ، وَعَطِيَّتُكَ أَفْضَلُ الْعَطِيَّةِ وَأَهْنَاهَا ، تُطَاعُ رَبَّنَا فَتَشْكُرُ ، وَتُعْصَى رَبَّنَا فَتَغْفِرُ ، وَتُجِيبُ الْمُضْطَرَّ ، وَتَكْشِفُ الْغَمَّ ، وَتَشْفِي السَّقِيمَ ، وَتَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ ، وَلَا يَجْزِي بِآلَائِكَ أَحَدٌ ، وَلَا يَبْلُغُ مَدْحَكَ قَوْلُ قَائِلٍ» ”اے اللہ! تیرا نور کامل ہے جس کی بدولت تو نے ہدایت عطا فرمائی، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں؛ تیری بردباری عظیم ہے کہ تو نے درگزر فرمایا، پس سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں؛ اور تو نے اپنا دستِ کرم دراز فرمایا اور خوب عطا کیا، پس تمام شکر و ثنا تیرے ہی لیے ہے۔ تیری ذات تمام ذاتوں سے بڑھ کر عظمت والی ہے، تیری شان و منزلت سب سے بلند ہے، اور تیری بخشش سب سے افضل اور نہایت خوشگوار ہے۔ اے ہمارے پروردگار! جب تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تو قدردانی فرماتا ہے، اور جب تیری نافرمانی کی جاتی ہے تو تو بخش دیتا ہے؛ تو ہی لاچار و بے بس کی پکار سنتا ہے، دکھ اور غم کو دور کرتا ہے، بیمار کو شفا بخشتا ہے، گناہ معاف فرماتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔ تیری نعمتوں کا بدلہ کوئی ادا نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی مدح کرنے والے کا کلام تیری کماحقہ ثناء و صفت کا احاطہ کر سکتا ہے“۔“
مسند ابویعلیٰ: 3417، اس کی سند میں خلیل بن مرہ بصری ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔