کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو بلند کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ رُزَيْقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَصَابَهُ شِدَّةٌ وَدَعَا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ کو جب کبھی کوئی سخت مصیبت یا پریشانی لاحق ہوتی اور آپ ﷺ دعا مانگتے، تو اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کو اتنا بلند فرماتے کہ آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں نفیع بن الحارث (ابو داؤد الاعمی) نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک متروک الحدیث اور سخت ضعیف ہے، لہٰذا یہ روایت سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں نفیع بن الحارث (ابو داؤد الاعمی) نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک متروک الحدیث اور سخت ضعیف ہے، لہٰذا یہ روایت سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هِلَالٍ ، صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ترجمہ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے دعا مانگتے ہوئے اپنے دونوں دستِ مبارک اس قدر بلند فرمائے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی صاف دکھائی دینے لگی۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، تاہم دعا میں ہاتھوں کو اتنا بلند کرنا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آئے، دیگر صحیح احادیث سے ثابت و مستند ہے۔
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، تاہم دعا میں ہاتھوں کو اتنا بلند کرنا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آئے، دیگر صحیح احادیث سے ثابت و مستند ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا خَالِدٌ هُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا " .
قَالَ خَالِدٌ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ : مَا مَعْنَى هَذَا ؟ فَرَفَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : هَكَذَا التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ .
قَالَ خَالِدٌ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ : مَا مَعْنَى هَذَا ؟ فَرَفَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : هَكَذَا التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ .
ترجمہ
عبدالرحمن بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اللہ عزوجل سے سوال کرو تو اپنی ہتھیلیوں کے بطن (اندرونی حصے) کے ذریعے مانگو اور اپنے ہاتھوں کی پشت سے سوال نہ کیا کرو۔“
خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر بتایا اور فرمایا: تکبیر اور تہلیل (یعنی اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کرتے وقت) اسی طرح کیا جاتا ہے۔
وضاحت: عربی متن میں عبدالرحمن بن محیریز کے نام کے ساتھ «رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» درج ہے، تاہم کتبِ رجال کے مطابق وہ تابعی ہیں، اس لیے اردو ترجمے میں ان کے لیے «رحمہ اللہ» استعمال کیا گیا ہے۔
خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر بتایا اور فرمایا: تکبیر اور تہلیل (یعنی اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کرتے وقت) اسی طرح کیا جاتا ہے۔
وضاحت: عربی متن میں عبدالرحمن بن محیریز کے نام کے ساتھ «رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» درج ہے، تاہم کتبِ رجال کے مطابق وہ تابعی ہیں، اس لیے اردو ترجمے میں ان کے لیے «رحمہ اللہ» استعمال کیا گیا ہے۔