المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ بالدعاء باب: دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو بلند کرنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا خَالِدٌ هُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا " .
قَالَ خَالِدٌ : قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ : مَا مَعْنَى هَذَا ؟ فَرَفَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : هَكَذَا التَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ .عبدالرحمن بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اللہ عزوجل سے سوال کرو تو اپنی ہتھیلیوں کے بطن (اندرونی حصے) کے ذریعے مانگو اور اپنے ہاتھوں کی پشت سے سوال نہ کیا کرو۔“
خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر بتایا اور فرمایا: تکبیر اور تہلیل (یعنی اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کرتے وقت) اسی طرح کیا جاتا ہے۔
وضاحت: عربی متن میں عبدالرحمن بن محیریز کے نام کے ساتھ «رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» درج ہے، تاہم کتبِ رجال کے مطابق وہ تابعی ہیں، اس لیے اردو ترجمے میں ان کے لیے «رحمہ اللہ» استعمال کیا گیا ہے۔