کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: دیہات میں رہنے کی کراہت اور بلاسبب تنہائی اختیار کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ يُونُسَ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ شَيْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ بَدَا أَكْثَرَ مِنْ شَهْرَيْنِ فَهِيَ أَعْرَابِيَّةٌ " .
هَذَا مُرْسَلٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ .
هَذَا مُرْسَلٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ
موسیٰ بن شیبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دو ماہ سے زائد عرصہ بستیوں سے دور صحرا و بیابان میں جا رہا، تو اس کا یہ فعل اعرابیت (بدویانہ طرزِ زندگی اور تمدنی فوائد سے محرومی) ہے“۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : الْبَدَاوَةُ شَهْرَانِ فَمَا زَادَ فَهُوَ تَعَرُّبٌ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ
ایاس بن معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”دیہات یا صحرا میں عارضی قیام کی مدت دو ماہ ہے، پس جو شخص اس سے زائد عرصہ وہاں قیام کرے گا تو اس کا یہ عمل ”تعرّب“ کہلائے گا، یعنی ہجرت اور شہری تمدن کو خیرباد کہہ کر دوبارہ مستقل طور پر بدویانہ زندگی اختیار کرنا شمار ہوگا۔“
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَا جَفَا " .
3272 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
( 126 ) وَحَدِيثُ عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ مَضَى فِي الْجِهَادِ .
3272 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
( 126 ) وَحَدِيثُ عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ مَضَى فِي الْجِهَادِ .
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص صحرا نشینی یا دیہات کی زندگی اختیار کر لے، وہ سخت مزاج اور اکھڑ ہو جاتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ ابو بکر سے یہی روایت نقل کی ہے، نیز عسعس بن سلامہ کی حدیث کتاب الجہاد میں پہلے گزر چکی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ ابو بکر سے یہی روایت نقل کی ہے، نیز عسعس بن سلامہ کی حدیث کتاب الجہاد میں پہلے گزر چکی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرِ بْنِ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ [ابْنِ الْأَطْوَلِ] ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ يَخْرُجُ إِلَى أَصْحَابِهِ بِتُسْتَرَ يَزُورُهُمْ ، فَيُقِيمُ يَوْمَ دُخُولِهِ ، وَالثَّانِيَ ، وَيَخْرُجُ فِي الثَّالِثِ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : لَوْ أَقَمْتَ ، فَيَقُولُ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنِ التِّنَاءَةِ ، فَمَنْ أَقَامَ بِبَلَدِ الْخَرَاجِ ثَلَاثًا فَقَدْ تَنَأَ ، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُقِيمَ .
3273 \ 2 - وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ فِي مُسْنَدِهِ : حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ بِهِ .
3273 \ 3 - وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ ، ثَنَا الْحَسَنُ بِهِ .
3273 \ 2 - وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ فِي مُسْنَدِهِ : حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ بِهِ .
3273 \ 3 - وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ ، ثَنَا الْحَسَنُ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے پوتے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ تستر کے مقام پر اپنے ساتھیوں کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، وہ وہاں اپنے داخلے کے دن اور دوسرے دن قیام فرماتے اور تیسرے دن وہاں سے روانہ ہو جاتے، تو لوگ ان سے عرض کرتے کہ کاش! آپ کچھ دیر مزید قیام فرماتے، جس پر وہ فرماتے کہ: ”میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا (یا انہوں نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ کو منع فرماتے ہوئے سنا) کہ 'تناءۃ' (خراجی زمین پر مستقل سکونت) سے بچو؛ پس جو شخص کسی خراجی شہر میں تین دن قیام کرے تو اس نے 'تناءۃ' اختیار کر لی، اور میں اسے ناپسند کرتا ہوں کہ میں وہاں (تین دن سے زیادہ) قیام کروں۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں، حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابونعیم نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں، حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابونعیم نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔