المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ سكنى البادية وَالزَّجْرِ عَنْ العزلة بغير سبب باب: دیہات میں رہنے کی کراہت اور بلاسبب تنہائی اختیار کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3271
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : الْبَدَاوَةُ شَهْرَانِ فَمَا زَادَ فَهُوَ تَعَرُّبٌ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .ترجمہ
ایاس بن معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”دیہات یا صحرا میں عارضی قیام کی مدت دو ماہ ہے، پس جو شخص اس سے زائد عرصہ وہاں قیام کرے گا تو اس کا یہ عمل ”تعرّب“ کہلائے گا، یعنی ہجرت اور شہری تمدن کو خیرباد کہہ کر دوبارہ مستقل طور پر بدویانہ زندگی اختیار کرنا شمار ہوگا۔“
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔