کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: علم کی وسعت اور اس کی بے پناہ پہنائیوں کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَرْنَا بِدِجْلَةَ فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ انْزِلْ ، فَاشْرَبْ ، فَنَزَلْتُ فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِلْ ، فَاشْرَبْ ، فَنَزَلْتُ ، فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ مَا نَقَصَ شَرَابُكَ مِنْ دِجْلَةَ ؟ قُلْتُ : مَا عَسَى أَنْ يَنْقُصَ شَرَابِي مِنْ دِجْلَةَ ؟ قَالَ : كَذَلِكَ الْعِلْمُ لَا يَفْنَى فَعَلَيْكَ مِنْهُ بِمَا يَنْفَعُكَ .
ترجمہ
بنو عبس کے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب ہمارا گزر دریائے دجلہ پر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”اے بنو عبس کے بھائی! سواری سے اترو اور پانی پیو۔“ چنانچہ میں اترا اور پانی پیا، پھر انہوں نے دوبارہ فرمایا: ”اترو اور پانی پیو۔“ میں پھر اترا اور پانی پیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”اے بنو عبس کے بھائی! تمہارے پانی پینے سے دجلہ کے پانی میں کیا کمی واقع ہوئی ہے؟“ میں نے عرض کیا: بھلا میرے پانی پینے سے دجلہ کے پانی میں کیا کمی ہو سکتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ”علم کی مثال بھی بالکل ایسی ہی ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا، لہٰذا تم اس میں سے وہ ضرور حاصل کرو جو تمہیں نفع دے سکے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم اس کا معنی و مفہوم دیگر صحیح احادیث و آثار سے ثابت ہے۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم اس کا معنی و مفہوم دیگر صحیح احادیث و آثار سے ثابت ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَحْسَبُهُ ، قَدْ رَفَعَهُ قَالَ : مَنْهُومَانِ لَا يَقْضِي أَحَدُهُمَا نَهْمَتَهُ : مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لَا يَقْضِي نَهْمَتَهُ ، وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْمَالِ لَا يَقْضِي نَهْمَتَهُ .
قُلْتُ : لَيْثٌ ضَعِيفٌ وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ قَالَ ، وَعَنْ أَنَسٍ عِنْدَ ابْنِ عَدِيٍّ وَرَفَعَاهُ ، وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلٌ ، وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ إِلَى الْحَسَنِ .
قُلْتُ : لَيْثٌ ضَعِيفٌ وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ قَالَ ، وَعَنْ أَنَسٍ عِنْدَ ابْنِ عَدِيٍّ وَرَفَعَاهُ ، وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلٌ ، وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ إِلَى الْحَسَنِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو حریص ایسے ہیں جن کی پیاس کبھی نہیں بجھتی اور ان میں سے کوئی بھی اپنی طلب کی انتہا کو نہیں پہنچ پاتا: ایک وہ جو علم کی طلب میں حد درجہ حریص ہو، وہ کبھی اپنی علمی تشنگی سے سیر نہیں ہوتا، اور دوسرا وہ جو مال و دولت کا حریص ہو، وہ کبھی اپنی ہوسِ زر سے آسودہ نہیں ہوتا۔“
میں کہتا ہوں: لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) طبرانی کے ہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابنِ عدی کے ہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ان دونوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، نیز امام حسن بصری سے یہ روایت مرسل طور پر منقول ہے اور امام حسن بصری تک اس کی سند صحیح ہے۔
میں کہتا ہوں: لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) طبرانی کے ہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابنِ عدی کے ہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ان دونوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، نیز امام حسن بصری سے یہ روایت مرسل طور پر منقول ہے اور امام حسن بصری تک اس کی سند صحیح ہے۔