❮
❯
حدیث نمبر: 3067
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَرْنَا بِدِجْلَةَ فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ انْزِلْ ، فَاشْرَبْ ، فَنَزَلْتُ فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِلْ ، فَاشْرَبْ ، فَنَزَلْتُ ، فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ مَا نَقَصَ شَرَابُكَ مِنْ دِجْلَةَ ؟ قُلْتُ : مَا عَسَى أَنْ يَنْقُصَ شَرَابِي مِنْ دِجْلَةَ ؟ قَالَ : كَذَلِكَ الْعِلْمُ لَا يَفْنَى فَعَلَيْكَ مِنْهُ بِمَا يَنْفَعُكَ .
ترجمہ

بنو عبس کے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب ہمارا گزر دریائے دجلہ پر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”اے بنو عبس کے بھائی! سواری سے اترو اور پانی پیو۔“ چنانچہ میں اترا اور پانی پیا، پھر انہوں نے دوبارہ فرمایا: ”اترو اور پانی پیو۔“ میں پھر اترا اور پانی پیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”اے بنو عبس کے بھائی! تمہارے پانی پینے سے دجلہ کے پانی میں کیا کمی واقع ہوئی ہے؟“ میں نے عرض کیا: بھلا میرے پانی پینے سے دجلہ کے پانی میں کیا کمی ہو سکتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ”علم کی مثال بھی بالکل ایسی ہی ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا، لہٰذا تم اس میں سے وہ ضرور حاصل کرو جو تمہیں نفع دے سکے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم اس کا معنی و مفہوم دیگر صحیح احادیث و آثار سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3067
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 692، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3171، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 35818، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6173»