المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ سعة العلم باب: علم کی وسعت اور اس کی بے پناہ پہنائیوں کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَحْسَبُهُ ، قَدْ رَفَعَهُ قَالَ : مَنْهُومَانِ لَا يَقْضِي أَحَدُهُمَا نَهْمَتَهُ : مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لَا يَقْضِي نَهْمَتَهُ ، وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْمَالِ لَا يَقْضِي نَهْمَتَهُ .
قُلْتُ : لَيْثٌ ضَعِيفٌ وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ قَالَ ، وَعَنْ أَنَسٍ عِنْدَ ابْنِ عَدِيٍّ وَرَفَعَاهُ ، وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلٌ ، وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ إِلَى الْحَسَنِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اور راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو حریص ایسے ہیں جن کی پیاس کبھی نہیں بجھتی اور ان میں سے کوئی بھی اپنی طلب کی انتہا کو نہیں پہنچ پاتا: ایک وہ جو علم کی طلب میں حد درجہ حریص ہو، وہ کبھی اپنی علمی تشنگی سے سیر نہیں ہوتا، اور دوسرا وہ جو مال و دولت کا حریص ہو، وہ کبھی اپنی ہوسِ زر سے آسودہ نہیں ہوتا۔“
میں کہتا ہوں: لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) طبرانی کے ہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابنِ عدی کے ہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ان دونوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، نیز امام حسن بصری سے یہ روایت مرسل طور پر منقول ہے اور امام حسن بصری تک اس کی سند صحیح ہے۔