کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: کسی چیز کے ذریعے (کسی بات کو) یاد رکھنے یا یاد دہانی حاصل کرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَافَ أَنْ يَنْسَى شَيْئًا ، رَبَطَ فِي يَدِهِ خَيْطًا يَسْتَذْكِرُ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کو جب کبھی یہ اندیشہ لاحق ہوتا کہ آپ ﷺ کوئی بات بھول جائیں گے، تو آپ ﷺ اپنے دستِ مبارک پر ایک دھاگہ باندھ لیا کرتے تھے تاکہ اس کی مدد سے وہ بات یاد رکھ سکیں اور وہ آپ ﷺ کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ بنے۔“
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عنبسہ بن عبد الرحمن نامی راوی متروک الحدیث اور سخت ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداﹰ انتہائی کمزور اور ناقابلِ اعتبار ہے۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عنبسہ بن عبد الرحمن نامی راوی متروک الحدیث اور سخت ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداﹰ انتہائی کمزور اور ناقابلِ اعتبار ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنْسَى ، فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلهِ مُذَكِّرِ النَّاسِي .
ترجمہ
بنو تمیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ (کوئی بات یا علم) بھول جائے گا، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھے: «الْحَمْدُ لِلهِ مُذَكِّرِ النَّاسِي» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو بھولنے والے کو یاد دلانے والا ہے۔“”
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کے ایک راوی معاویہ بن یحییٰ ضعیف ہیں اور بنو تمیم کا وہ شخص جس سے انہوں نے روایت کی ہے وہ مجہول (نامعلوم) ہے۔
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کے ایک راوی معاویہ بن یحییٰ ضعیف ہیں اور بنو تمیم کا وہ شخص جس سے انہوں نے روایت کی ہے وہ مجہول (نامعلوم) ہے۔