المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الاستذكار بالشيء باب: کسی چیز کے ذریعے (کسی بات کو) یاد رکھنے یا یاد دہانی حاصل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3044
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَافَ أَنْ يَنْسَى شَيْئًا ، رَبَطَ فِي يَدِهِ خَيْطًا يَسْتَذْكِرُ بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کو جب کبھی یہ اندیشہ لاحق ہوتا کہ آپ ﷺ کوئی بات بھول جائیں گے، تو آپ ﷺ اپنے دستِ مبارک پر ایک دھاگہ باندھ لیا کرتے تھے تاکہ اس کی مدد سے وہ بات یاد رکھ سکیں اور وہ آپ ﷺ کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ بنے۔“
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عنبسہ بن عبد الرحمن نامی راوی متروک الحدیث اور سخت ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداﹰ انتہائی کمزور اور ناقابلِ اعتبار ہے۔