قَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ ، كَانَ يَقُولُ : يَا بُنَيَّ لَا تَتَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ ، وَلَا تَتْرُكِ الْعِلْمَ زُهْدًا فِيهِ ، وَرَغْبَةً فِي الْجَهْلِ ، يَا بُنَيَّ إِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى ، فَاجْلِسْ مَعَهُمْ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكُ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ ، وَإِنْ تَكُ جَاهِلًا يُعَلِّمُوكَ ، وَلَعَلَّ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ ، فَتُصِيبَكَ مَعَهُمْ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت لقمان حکیم فرمایا کرتے تھے: ”اے میرے پیارے بیٹے! علم اس لیے حاصل نہ کرنا کہ تم اس کے ذریعے علماء کے سامنے اپنی برتری جتاؤ اور ان سے فخر و مباہات کرو، نہ اس لیے کہ نادان لوگوں سے جھگڑا اور بحث و تکرار کرو، اور نہ ہی اس لیے کہ محفلوں میں اپنی ریا کاری اور دکھاوا کرو؛ اور علم سے بے رغبتی کی بنا پر یا جہالت کو پسند کرتے ہوئے اسے حاصل کرنا ترک نہ کر دینا۔ اے میرے پیارے بیٹے! جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جایا کرو، کیونکہ اگر تم عالم ہو گے تو تمہارا علم تمہیں نفع دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ تمہیں سکھا دیں گے، اور قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کی نظر فرمائے تو ان کی معیت میں وہ رحمت تمہیں بھی نصیب ہو جائے۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : مَا سَلَكَ رَجُلٌ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ الْعِلْمَ ، إِلَّا سَهَّلَ اللهُ تَعَالَى لَهُ سَبِيلًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ يُبْطِئْ بِهِ عَمَلُهُ لَا يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص بھی علم کی جستجو میں کسی راستے پر گامزن ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی ایک راہ آسان فرما دیتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے پیچھے کر دے، تو اس کا نسب اسے ہرگز آگے نہیں بڑھا سکتا۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
امام مسدد رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔