المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
باب (أحاديث 3020–3021) باب: (احادیث 3020 تا 3021)
قَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ ، كَانَ يَقُولُ : يَا بُنَيَّ لَا تَتَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَتُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ ، وَلَا تَتْرُكِ الْعِلْمَ زُهْدًا فِيهِ ، وَرَغْبَةً فِي الْجَهْلِ ، يَا بُنَيَّ إِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللهَ تَعَالَى ، فَاجْلِسْ مَعَهُمْ ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكُ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ ، وَإِنْ تَكُ جَاهِلًا يُعَلِّمُوكَ ، وَلَعَلَّ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ ، فَتُصِيبَكَ مَعَهُمْ .سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت لقمان حکیم فرمایا کرتے تھے: ”اے میرے پیارے بیٹے! علم اس لیے حاصل نہ کرنا کہ تم اس کے ذریعے علماء کے سامنے اپنی برتری جتاؤ اور ان سے فخر و مباہات کرو، نہ اس لیے کہ نادان لوگوں سے جھگڑا اور بحث و تکرار کرو، اور نہ ہی اس لیے کہ محفلوں میں اپنی ریا کاری اور دکھاوا کرو؛ اور علم سے بے رغبتی کی بنا پر یا جہالت کو پسند کرتے ہوئے اسے حاصل کرنا ترک نہ کر دینا۔ اے میرے پیارے بیٹے! جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جایا کرو، کیونکہ اگر تم عالم ہو گے تو تمہارا علم تمہیں نفع دے گا اور اگر تم جاہل ہو گے تو وہ تمہیں سکھا دیں گے، اور قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کی نظر فرمائے تو ان کی معیت میں وہ رحمت تمہیں بھی نصیب ہو جائے۔“
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔