❮
❯
حدیث نمبر: 3019
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ إِبْلِيسَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : أَتُسْلِمُ وَتَتْرُكُ دِينَكَ ، وَأَهْلَكَ ، وَوَلَدَكَ ، وَمَوْلِدَكَ ؟ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ لَهُ : أَتُهَاجِرُ ، وَإِنَّمَا الْهِجْرَةُ كَالْفَرَسِ فِي طُولِهِ ، لَا يَرِيمُ ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ ، فَقَالَ لَهُ : أَتُجَاهِدُ - إِنَّمَا الْجِهَادُ كَاسْمِهِ ، يَجْهَدُ الْمَالَ وَالنَّفْسَ - فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلَ فَتُنْكَحَ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَّمَ الْمَالُ ؟ فَعَصَاهُ ، فَجَاهَدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَنْ كَانَتْ فِيهِ هَذِهِ الْخِصَالُ ، فَهُوَ مَضْمُونٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ أَوْ غَرِقَ أَوِ احْتَرَقَ أَنْ يُدْخِلَهُ اللهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ .
هَذَا مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ .
ترجمہ

منصور بن معتمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً ابلیس ابن آدم کے (نیکی کے) تمام راستوں پر اس کی گھات میں بیٹھ گیا ہے؛ چنانچہ وہ سب سے پہلے اس کے لیے قبولِ اسلام کے راستے پر رکاوٹ بن کر بیٹھا اور وسوسہ اندازی کرتے ہوئے کہنے لگا: کیا تم اسلام قبول کر کے اپنے (آبا و اجداد کے) دین، اپنے اہل وعیال، اپنی اولاد اور اپنی جائے پیدائش کو خیرباد کہہ رہے ہو؟ مگر اس بندے نے شیطان کی نافرمانی کی اور اسلام لے آیا۔ پھر شیطان اس کے لیے ہجرت کی راہ میں رکاوٹ بن کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: کیا تم ہجرت کر رہے ہو؟ حالانکہ ہجرت کی مثال تو طویل رسی میں بندھے اس گھوڑے کی سی ہے جو (اپنی مرضی سے) کہیں آ جا نہیں سکتا، اس نے پھر شیطان کی نافرمانی کی اور ہجرت کر لی۔ پھر شیطان اس کے لیے جہاد کے راستے پر بیٹھ گیا اور اسے ڈرانے لگا کہ کیا تم جہاد کرو گے؟ حالانکہ جہاد تو اپنے نام ہی کی طرح سراسر مشقت و آزمائش ہے، اس میں جان و مال کھپ جاتے ہیں، تم لڑو گے اور مارے جاؤ گے، پھر تمہاری بیوہ سے کوئی دوسرا نکاح کر لے گا اور تمہارا مال (وراثت میں) بانٹ دیا جائے گا؟ اس بندے نے پھر اس کی نافرمانی کی اور راہِ خدا میں جہاد کیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس جس شخص میں یہ اوصاف (ایمان، ہجرت اور جہاد) پائے جائیں، تو اللہ عزوجل کے ذمے اس کا حق (ضمانت) ہے کہ اگر وہ اپنی طبعی موت مر جائے، یا میدانِ جنگ میں قتل کر دیا جائے، یا پانی میں ڈوب جائے، یا آگ میں جل کر لقمہ اجل بن جائے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور بالضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔“
یہ روایت مرسل یا معضل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 3019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15528، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6558، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 121»