❮
❯
حدیث نمبر: 3022
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ الْبَكْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ الْجَعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَدْرِي أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ ؟ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، حَتَّى قَالَ لِي ثَلَاثًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ الْحُبُّ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ تَعَالَى ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ ، قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ أَفْضَلَهُمْ عِلْمًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْلَمُهُمْ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ .
3022 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الصَّعْقُ ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا .
3022 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ ، كَذَلِكَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابن مسعود! کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کا کون سا کڑا اور دستگیرہ سب سے زیادہ مضبوط ہے؟“ میں نے عرض کی: ”لبیک یا رسول اللہ! اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ مجھ سے یہی سوال دہرایا اور میں نے یہی جواب دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کسی سے محبت کرنا اور اللہ ہی کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے عرض کی: ”لبیک یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ”اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے تین بار یہی دریافت فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً ان میں سب سے افضل وہ علم والے ہیں جو اپنے دین کی گہری سمجھ بوجھ اور تفقہ رکھتے ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے عرض کی: ”لبیک یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحبِ علم کون ہے؟“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہی دریافت فرمایا اور میں نے عرض کی: ”اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ ہے جو حق کے معاملے میں سب سے زیادہ بصیرت اور پہچان رکھتا ہو جب کہ لوگ (مختلف آراء کی وجہ سے) اختلاف کا شکار ہوں، اگرچہ وہ عمل کے معاملے میں کچھ کوتاہی کرنے والا ہو اور خواہ وہ (جسمانی کمزوری یا عذر کی وجہ سے) اپنی سرین کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ چلتا ہو۔“
امام طیالسی رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے صعق نے بیان کیا، پھر انہوں نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے۔
نیز امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے شیبان نے، انہوں نے صعق سے اسی طرح بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3022
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مدار الحديث على الصعق بن حزن، وهو ثقة ولكن شيخه كما قال غير واحد منكر الحديث. »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 3842، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10357، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 282/1، وأخرجه المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي برقم: 839»