المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الرفض باب: رافضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ عَلِيٍّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ ، قَالَتْ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَذَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ قَوْمًا يَعْلَمُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ يَرْفُضُونَهُ ، لَهُمْ نَبَزٌ ، يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ ، مَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَعْلَمْ بِأَنَّهُمْ مُشْرِكُونَ .ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت محمد ﷺ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا اور ارشاد فرمایا: ”یہ جنت میں ہے، اور یقیناً اس کے گروہ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایسی قوم ہوگی جو اسلام کو تو پہچانیں گے پھر اسے ترک کر دیں گے، ان کا ایک خاص لقب ہوگا، انہیں رافضہ کہا جائے گا، پس جو شخص ان سے ملے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ مشرک ہیں۔“
اس روایت کی سند میں ابو الجحاف داؤد بن ابی عوف ہیں اور یہ روایت سنداً اور متناً ضعیف و منکر قرار دی گئی ہے۔