❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ سَلْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُلْوَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الدِّينِ : تُجَمِّعُ وَرَاءَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَيُصَلَّى عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ، وَيُجَاهَدُ فِي خِلَافَةِ مَنْ كَانَ ، لَكَ أَجْرُكَ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین امور دین کی اصل اور بنیاد میں سے ہیں: (پہلا یہ کہ) تم ہر نیک اور بد (امام یا حکمران) کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کرو، (دوسرا یہ کہ) اہل قبلہ میں سے جو بھی وفات پا جائے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور (تیسرا یہ کہ) خلیفہ خواہ کوئی بھی ہو اس کی سربراہی میں جہاد جاری رکھا جائے، اس عمل پر تمہیں تمہارا اجر مل کر رہے گا۔“
[تخریج: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ: 474 میں موجود ہے، اس کی سند میں محمد بن علوان نامی راوی مجہول ہے، تاہم حدیث میں مذکورہ امور اہل سنت کے اجماعی عقائد اور دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں]۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2936
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه سنن الدارقطني برقم: 1765»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ .
2937 \ 2 - رَوَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ .
خَالَفَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَقَالَ : عَطَاءٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص قرآن مجید پر (کامل) ایمان نہیں لایا جس نے اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے دیا۔“
اسے عبد بن حمید نے ابوبکر سے روایت کیا ہے۔ نیز محمد بن یزید بن سنان نے اپنے والد سے اس روایت کی سند میں مخالفت کی ہے اور انہوں نے اسے عطاء، عن مجاہد، عن صہیب کی سند سے بیان کیا ہے، جسے امام ابن عدی نے ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2937
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2918، وأخرجه مسند البزار برقم: 2084، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7295، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6008/1»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِأَخِيهِ : لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ ، فَقِيلَ لَهُ : بَلْ لَكَ لَا يَغْفِرُ اللهُ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص نے اپنے (دینی) بھائی سے کہا: «لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت نہیں کرے گا“، تو اسے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کہہ دیا گیا: «بَلْ لَكَ لَا يَغْفِرُ اللهُ» ”بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ تمہاری ہی مغفرت نہیں کرے گا“۔“
صحیح۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2938
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ . »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5712، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4901، وأخرجه مسند أحمد برقم: 8408، وأخرجه مسند البزار برقم: 9418»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَطِئَ رَجُلٌ عَلَى عُنُقِ رَجُلٍ ، وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَقَالَ : أَوَطِئْتَ عَلَى عُنُقِي وَأَنَا سَاجِدٌ ؟ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ ، فَقَالَ : تَأَلَّى عَلَى اللهِ تَعَالَى فَغَفَرَ لَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے آدمی کی گردن پر پاؤں رکھا جبکہ وہ سجدے کی حالت میں تھا، تو اس (سجدہ کرنے والے) نے (برہمی کے عالم میں) کہا: ”کیا تو نے میری گردن پر پاؤں رکھا ہے جبکہ میں سجدہ ریز ہوں؟ اللہ کی قسم! اللہ تجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔“ تو اللہ عزوجل نے (اس پر) ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اختیار پر قسم کھائی ہے (کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا)، چنانچہ اللہ نے اس (دوسرے شخص) کو معاف فرما دیا۔“
اس حدیث کو امام مسدد نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2939
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرفوع حكمًا. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20275، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8795»