المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الملة ملة محمد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: ملت کے ملتِ محمد ﷺ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2940
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : إِنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَعَلَى مِلَّةِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنْتَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَا مِلَّةِ ابْنِ عَفَّانَ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَعَلَى أَيِّ مِلَّةٍ أَنْتَ ؟ قَالَ : عَلَى مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
طاؤس بن کیسان سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”کیا آپ علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) کے طریقے اور مسلک پر ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہ میں ان کے مخصوص طریقے پر ہوں اور نہ ہی عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) کے طریقے پر،“ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے استفسار کیا: ”تو پھر آپ کس کے طریقے اور نظریے پر کاربند ہیں؟“ انہوں نے دو ٹوک جواب دیا: ”میں تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین اور طریقے پر قائم ہوں۔“
اس اثر کی سند صحیح اور جید ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا ہے۔