المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ أصول الدين باب: اصولِ دین کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ سَلْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُلْوَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الدِّينِ : تُجَمِّعُ وَرَاءَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَيُصَلَّى عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ، وَيُجَاهَدُ فِي خِلَافَةِ مَنْ كَانَ ، لَكَ أَجْرُكَ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین امور دین کی اصل اور بنیاد میں سے ہیں: (پہلا یہ کہ) تم ہر نیک اور بد (امام یا حکمران) کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کرو، (دوسرا یہ کہ) اہل قبلہ میں سے جو بھی وفات پا جائے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور (تیسرا یہ کہ) خلیفہ خواہ کوئی بھی ہو اس کی سربراہی میں جہاد جاری رکھا جائے، اس عمل پر تمہیں تمہارا اجر مل کر رہے گا۔“
[تخریج: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ: 474 میں موجود ہے، اس کی سند میں محمد بن علوان نامی راوی مجہول ہے، تاہم حدیث میں مذکورہ امور اہل سنت کے اجماعی عقائد اور دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں]۔