کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: لوگوں کے مابین صلح کرانے اور باہمی تعلقات کی درستی کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو الصَّبَّاحِ الشَّامِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الشَّامِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ تُرْضِي اللهَ وَرَسُولَهُ بِوَضْعِهَا ؟ " ، فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : " تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا ، وَتُقَرِّبُ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا " .
2641 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَبَاغَضُوا وَتَفَاسَدُوا " .
2641 \ 3 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
2641 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَبَاغَضُوا وَتَفَاسَدُوا " .
2641 \ 3 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اے ابو ایوب! کیا میں تمہیں ایسے صدقے کی خبر نہ دوں کہ جس کے بجا لانے سے اللہ اور اس کا رسول خوش ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ضرور بتائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب لوگوں کے مابین بگاڑ اور فساد پیدا ہو جائے تو ان میں صلح و صفائی کروانا، اور جب ان کے درمیان دوریاں پیدا ہو جائیں تو انہیں ایک دوسرے کے قریب کرنا (بہترین صدقہ ہے)۔“
امام ابن ابی شیبہ کی روایت میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ صدقہ نہ بتاؤں جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ محبت کرتے ہیں؟ وہ یہ ہے کہ جب لوگوں میں باہمی بغض و عناد اور فساد پیدا ہو جائے تو تم ان کے درمیان صلح و آشتی کروا دو۔“
امام عبد بن حمید نے بھی اپنی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
امام ابن ابی شیبہ کی روایت میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ صدقہ نہ بتاؤں جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ محبت کرتے ہیں؟ وہ یہ ہے کہ جب لوگوں میں باہمی بغض و عناد اور فساد پیدا ہو جائے تو تم ان کے درمیان صلح و آشتی کروا دو۔“
امام عبد بن حمید نے بھی اپنی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ أَيْضًا : حَدَّثَنَا يَعْلَى هُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَفْرِيقِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ بہترین اور فضیلت والا صدقہ لوگوں کے باہمی تعلقات کو درست کرنا اور آپس میں صلح و صفائی کروانا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہے اور اس نے ایک مبہم (نامعلوم) شخص سے روایت کی ہے جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہے اور اس نے ایک مبہم (نامعلوم) شخص سے روایت کی ہے جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔