المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الإصلاح بَيْنَ النَّاسِ باب: لوگوں کے مابین صلح کرانے اور باہمی تعلقات کی درستی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2642
وَقَالَ عَبْدٌ أَيْضًا : حَدَّثَنَا يَعْلَى هُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَفْرِيقِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ بہترین اور فضیلت والا صدقہ لوگوں کے باہمی تعلقات کو درست کرنا اور آپس میں صلح و صفائی کروانا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہے اور اس نے ایک مبہم (نامعلوم) شخص سے روایت کی ہے جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔