❮
❯
حدیث نمبر: 2643
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ بَابَ حُجْرَتِهِ ، فَلْيُسَمِّ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ قَرِينُهُ الَّذِي مَعَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا دَخَلْتُمْ حُجْرَتَكُمْ ، فَسَمُّوا يَخْرُجْ سَاكِنُهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ ، فَإِذَا رَحَلْتُمْ ، فَسَمُّوا عَلَى أَوَّلِ حِلْسٍ تَضَعُونَهُ عَلَى دَوَابِّكُمْ ، لَا يَشْرَكْكُمُ الشَّيْطَانُ فِي مَرْكَبِهَا ، فَإِذَا أَنْتُمْ لَمْ تَفْعَلُوا شَرَكَكُمْ ، وَإِذَا أَكَلْتُمْ ، فَسَمُّوا ، حَتَّى لَا يَشْرَكَكُمْ فِي طَعَامِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا شَرَكَكُمْ فِي طَعَامِكُمْ ، وَلَا تُبَيِّتُوا الْقُمَامَةَ مَعَكُمْ فِي حُجَرِكُمْ ، فَإِنَّهَا مَقْعَدُهُ ، وَلَا تُبَيِّتُوا الْمِنْدِيلَ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّهَا مَضْجَعُهُ ، وَلَا تَفْتَرِشُوا الْوَلَايَا الَّتِي عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ ، وَلَا تَسْكُنُوا بُيُوتًا غَيْرَ مُغْلَقَةٍ ، وَلَا تَبِيتُوا عَلَى سُطُوحٍ غَيْرِ مَحُوطٍ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكَلْبِ ، وَنَهِيقَ الْحِمَارِ ، فَاسْتَعِيذُوا بِاللهِ ، فَإِنَّهُ لَا يَنْهَقُ حِمَارٌ ، وَلَا يَنْبَحُ كَلْبٌ إِلَّا حِينَ يَرَاهُ " .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے حجرے کے دروازے پر آئے تو اسے چاہیے کہ اللہ کا نام لے، کیونکہ اس طرح اس کے ساتھ لگا ہوا شیطانی ہمزاد واپس لوٹ جاتا ہے، اور جب تم اپنے حجرے میں داخل ہو تو اللہ کا نام لیا کرو، اس سے وہاں رہنے والے شیاطین نکل جاتے ہیں، اور جب تم سفر پر روانہ ہونے لگو تو اپنے جانوروں پر پہلی جھول رکھتے وقت اللہ کا نام لیا کرو تاکہ شیطان تمہاری سواری میں شریک نہ ہو سکے، کیونکہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو وہ تمہاری سواری میں شریک ہو جائے گا، اور جب تم کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لیا کرو تاکہ وہ تمہارے کھانے میں شریک نہ ہو پائے، کیونکہ اگر تم نے بسم اللہ نہ پڑھی تو وہ تمہارے کھانے میں شریک ہو جائے گا، اور تم اپنے حجروں میں کوڑا کرکٹ رات بھر پڑا نہ رہنے دیا کرو کیونکہ وہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے، اور نہ ہی چکنائی والے رومال گھروں میں رات بھر رہنے دو کیونکہ وہ اس کے سونے کی جگہ ہے، اور جانوروں کی پشت پر رکھے جانے والے گدوں کو زمین پر بستر بنا کر مت بچھاؤ، اور ایسے گھروں میں سکونت اختیار نہ کرو جن کے دروازے بند نہ ہوں، اور نہ ہی ایسی چھتوں پر رات بسر کرو جن کے گرد حفاظتی منڈیر نہ ہو، اور جب تم کتے کے بھونکنے اور گدھے کے ہینگنے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ طلب کیا کرو «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ کیونکہ گدھا ہینگتا اور کتا بھونکتا ہی اس وقت ہے جب وہ اسے (شیطان کو) دیکھتا ہے۔“
[أخرجه عبد بن حميد في مسنده: 1115، وأبو يعلى في مسنده: 1782، وفي سنده حرام بن عثمان وهو ضعيف جداً ومتروك عند أئمة الحديث].

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2643
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1108، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19561»