کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: حرام اشیاء کے ذریعے علاج معالجہ کرنے کی سخت ممانعت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ : " أَيُّهَا النَّاسُ أَيْنَ يُذْهَبُ بِكُمْ ؟ أَتَسْقُونَ أَوْلَادَكُمُ الْخَمْرَ ؟ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کدھر لے جایا جا رہا ہے؟ کیا تم اپنے بچوں کو شراب پلاتے ہو؟ تمہاری اولاد تو فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوئی ہے، اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفاء ان چیزوں میں ہرگز نہیں رکھی جنہیں اس نے تم پر حرام قرار دیا ہے۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا آخری حصہ اپنی صحیح میں تعلیقاً ذکر کیا ہے جبکہ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے بھی اسے موصولاً روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7604، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19742، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 17098، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 23958، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 652، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9713»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي ، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي تَوْرٍ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْلِي ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْتُ لَهَا هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ " .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری ایک صاحبزادی بیمار ہوگئی، تو میں نے اس کی صحت یابی کے لیے ایک برتن میں نبیذ تیار کیا، اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ برتن میں جوش مار رہا تھا (یعنی اس میں خمیر پیدا ہو رہا تھا)، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میری بیٹی بیمار ہے، اس لیے میں نے اس کے لیے یہ مشروب تیار کیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہاری شفا کو ایسی کسی چیز میں نہیں رکھا جسے تم پر حرام کیا گیا ہو۔“
اسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2500
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8286، 8287، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3917/1»