المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ بط الورم باب: ورم یا پھوڑے کو چیرنے اور اس کی جراحی کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِهِ وَرَمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُخْرِجُوهُ عَنْهُ " قَالَ : فَبُطَّ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک انصاری شخص کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے جنہیں ورم (سوجن یا پھوڑے) کی شدید شکایت تھی، تو نبی کریم ﷺ نے (اس کے علاج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس (تکلیف دہ مادے) کو اس کے جسم سے خارج نہیں کرو گے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اس پھوڑے کو چاک کر دیا گیا (یعنی نشتر لگا کر فاسد مادہ نکال دیا گیا) اور رسول اللہ ﷺ وہاں خود موجود (اور اس عمل کا مشاہدہ فرما رہے) تھے۔
مسند ابویعلیٰ: 2498، مجمع الزوائد: 5/97، علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کے بقول اس کی سند میں ابوالربیع السمان ضعیف ہے، تاہم علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ (3558) میں صحیح قرار دیا ہے۔