❮
❯
حدیث نمبر: 2499
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ : " أَيُّهَا النَّاسُ أَيْنَ يُذْهَبُ بِكُمْ ؟ أَتَسْقُونَ أَوْلَادَكُمُ الْخَمْرَ ؟ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کدھر لے جایا جا رہا ہے؟ کیا تم اپنے بچوں کو شراب پلاتے ہو؟ تمہاری اولاد تو فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوئی ہے، اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفاء ان چیزوں میں ہرگز نہیں رکھی جنہیں اس نے تم پر حرام قرار دیا ہے۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا آخری حصہ اپنی صحیح میں تعلیقاً ذکر کیا ہے جبکہ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے بھی اسے موصولاً روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7604، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19742، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 17098، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 23958، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 652، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9713»