المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ التداوي بالحرام باب: حرام اشیاء کے ذریعے علاج معالجہ کرنے کی سخت ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2500
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي ، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي تَوْرٍ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْلِي ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْتُ لَهَا هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ " .
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میری ایک صاحبزادی بیمار ہوگئی، تو میں نے اس کی صحت یابی کے لیے ایک برتن میں نبیذ تیار کیا، اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ برتن میں جوش مار رہا تھا (یعنی اس میں خمیر پیدا ہو رہا تھا)، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میری بیٹی بیمار ہے، اس لیے میں نے اس کے لیے یہ مشروب تیار کیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہاری شفا کو ایسی کسی چیز میں نہیں رکھا جسے تم پر حرام کیا گیا ہو۔“
اسے امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔