کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: فخر و نمائش کے لیے تیار کیے گئے کھانے کی ممانعت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا [جِدًّا] وَفِيهِ : وَمَنْ أَطْعَمَ طَعَامًا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَطْعَمَهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ صَدِيدِ جَهَنَّمَ ، وَكَانَ ذَلِكَ الطَّعَامُ نَارًا فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں ایک بہت لمبی حدیث بیان فرمائی۔ اس حدیث میں یہ بھی مذکور تھا: ”اور جس شخص نے محض دکھاوے (ریاکاری) اور شہرت و ناموری (سمعہ) کی غرض سے کسی کو کھانا کھلایا، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پیپ (یعنی زخموں کے گندے مواد) سے کھانا کھلائے گا، اور وہ (دنیا کا کھلایا ہوا) کھانا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک اس کے پیٹ میں آگ بن کر رہے گا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الذبائح / حدیث: 2355
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث موضوع. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»
وَقَالَ : مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْجَارُودَ ، يَقُولُ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي رَبَاحٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ أُثَالٍ ، وَكَانَ شَاعِرًا أَتَى الْفَرَزْدَقَ بِمَاءٍ بِظَهْرِ الْكُوفَةِ عَلَى أَنْ يَعْقِرَ هَذَا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَهَذَا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ إِذَا وَرَدَتِ الْمَاءَ ، فَلَمَّا وَرَدَتْ قَامَا إِلَيْهَا بِالسُّيُوفِ يَكْتَسِعَانِ عَرَاقِيبَهَا ، فَخَرَجَ النَّاسُ عَلَى الْحُمُرَاتِ وَالْبِغَالِ يُرِيدُونَ اللَّحْمَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ ، فَخَرَجَ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يُنَادِي : أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِهَا ، فَإِنَّهُ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى " .
ترجمہ

مسدد نے بیان کیا کہ ہم سے ربعی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے جارود کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: بنو رباح کا ایک شخص جسے ابن اثال کہتے تھے اور وہ شاعر تھا، فرزدق کے پاس کوفہ کے مضافات میں ایک چشمے پر آیا اس شرط پر کہ جب اونٹ پانی پر آئیں تو یہ (ابن اثال) سو اونٹ ذبح کرے گا اور وہ (فرزدق) سو اونٹ ذبح کرے گا۔ پس جب اونٹ پانی پر آئے تو دونوں تلواریں لے کر ان کے پاؤں کی نسیں کاٹنے کھڑے ہو گئے۔ لوگ گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت حاصل کرنے کے ارادے سے نکل پڑے۔ اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ میں تھے، تو آپ رسول اللہ ﷺ کی سفید خچر پر سوار ہو کر باہر تشریف لائے اور یہ ندا دے رہے تھے: ”اے لوگو! ان کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہے“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الذبائح / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»