المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الذبائح— ذبائح اور جانور ذبح کرنے کے احکام کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَكَلَ الطَّعَامِ الَّذِي يَصْنَعُ للمباهاة باب: فخر و نمائش کے لیے تیار کیے گئے کھانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2355
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا [جِدًّا] وَفِيهِ : وَمَنْ أَطْعَمَ طَعَامًا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَطْعَمَهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ صَدِيدِ جَهَنَّمَ ، وَكَانَ ذَلِكَ الطَّعَامُ نَارًا فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں ایک بہت لمبی حدیث بیان فرمائی۔ اس حدیث میں یہ بھی مذکور تھا: ”اور جس شخص نے محض دکھاوے (ریاکاری) اور شہرت و ناموری (سمعہ) کی غرض سے کسی کو کھانا کھلایا، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پیپ (یعنی زخموں کے گندے مواد) سے کھانا کھلائے گا، اور وہ (دنیا کا کھلایا ہوا) کھانا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک اس کے پیٹ میں آگ بن کر رہے گا۔“