قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ قَالَ : أَحْسَبُهُمْ قَتَلَهُمْ . ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْأَرْضِ ، فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، احْفِرُوا هَذَا الْمَكَانَ لَا بَلْ هَذَا الْمَكَانَ . ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، احْفِرُوا هَذَا الْمَكَانَ . قَالَ : فَحَفَرُوا فَأَلْقَاهُمْ فِيهِ ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ آنِفًا ، عَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ ، إِنَّمَا أَنَا مُكَائِدٌ ، أَرَأَيْتَ لَوْ قُلْتُ : اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، احْفِرُوا هَذَا الْمَكَانَ ، مَا كَانَ ؟ .
صَحِيحٌ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس قومِ زط کے کچھ لوگ لائے گئے، راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر زمین کی طرف دیکھا اور فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“، اس جگہ گڑھا کھودو، نہیں بلکہ اس جگہ کھودو۔ پھر آپ نے دوبارہ آسمان اور پھر زمین کی طرف دیکھا اور فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“، اس مقام پر گڑھا کھودو۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے گڑھا کھودا اور آپ نے انہیں اس میں ڈال دیا (دفن کر دیا)۔ پھر آپ تشریف لے گئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ ابھی جو عمل فرما رہے تھے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں آپ سے کوئی عہد (پیش گوئی یا حکم) فرمایا تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً میرا آسمان سے زمین پر گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ذمے ایسی بات لگاؤں جو آپ نے نہیں فرمائی، دراصل میں تو صرف ایک جنگی چال چلنے والا ہوں، تمہارا کیا خیال ہے اگر میں یہ کہتا کہ «اللهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“، اس جگہ گڑھا کھودو، تو (اس کا کیا نتیجہ ہوتا)؟“ یہ حدیث صحیح ہے۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَوَّارٍ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ .
تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ .
تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ .
ترجمہ
المسیب بن نجبہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنگ ایک (جنگی) چال ہے“؛ اس روایت کی متابعت محمد بن سعید نے عبداللہ بن بکیر سے کی ہے اور اسے امام بزار نے بھی روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو يَاسِرٍ عَمَّارٌ ، ثَنَا هِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْحَرْبُ خِدَاعٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جنگ تو ایک (جنگی) چال کا نام ہے“۔