کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: اہلِ عہد میں سے نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا خون رائیگاں ہونے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ذَاهِبُ الْبَصَرِ يَأْوِي إِلَى يَهُودِيَّةٍ ، وَكَانَتْ حَسَنَةَ الصَّنِيعِ إِلَيْهِ ، وَكَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَتْهُ . فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَفْعَلَ ، فَقَتَلَهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ إِلَيَّ صَنِيعًا ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تَسُبُّكَ إِذَا ذَكَرَتْكَ فَنَهَيْتُهَا ، فَأَبَتْ أَنْ تَفْعَلَ فَقَتَلْتُهَا ، فَأَطَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا .
ترجمہ
ابواسحاق ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا مسلمان شخص ایک یہودی خاتون کے پاس ٹھہرا ہوا تھا جو اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتی تھی، لیکن جب وہ نبی ﷺ کا تذکرہ کرتی تو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ اس شخص نے اسے اس (نازیبا حرکت) سے روکا مگر وہ باز نہ آئی، چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا، جب یہ معاملہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے بازپرس فرمائی، جس پر اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بے شک وہ میرے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والوں میں بہترین خاتون تھی، لیکن جب وہ آپ کا ذکر کرتی تو آپ ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی، میں نے اسے منع کیا مگر وہ باز نہ آئی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أُتِيَ بِرَاهِبٍ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا يَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ سَمِعْتُهُ لَقَتَلْتُهُ ، إِنَّا لَمْ نُعْطِهِمُ الذِّمَّةَ لِيَسُبُّوا نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
2031 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرَّ بِرَاهِبٍ ... نَحْوَهُ .
2031 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرَّ بِرَاهِبٍ ... نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک راہب کو لایا گیا اور ان سے عرض کی گئی کہ یہ شخص نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک میں گستاخی کرتا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں اسے (خود یہ کلمات کہتے ہوئے) سن لیتا تو اسے ضرور قتل کر دیتا، کیونکہ ہم نے انہیں اس لیے پناہ اور عہدِ ذمہ نہیں دیا کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کو برا بھلا کہیں۔“ نیز امام حارث نے بھی اپنی سند سے اسی کے مانند نقل کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ایک راہب کے پاس سے ہوا تھا؛ یہ روایت اپنی پہلی سند کے لحاظ سے ایک مبہم راوی کی موجودگی کی بنا پر منقطع ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : إِنَّ غَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتْ ، لَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَكَانَ يَلْبَسُ كُلَّ يَوْمٍ ثَوْبًا ، أَوْ قَالَ : حُلَّةً لَا تُشْبِهُ الْأُخْرَى ، يَلْبَسُ فِي السَّنَةِ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ ثَوْبًا ، وَكَانَ لَهُ عَهْدٌ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَغَضِبَ فَسَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهُ غَرَفَةُ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَطْمَئِنُّونَ إِلَيْنَا لِلْعَهْدِ . قَالَ : مَا عَاهَدْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ .
ترجمہ
سیدنا غَرَفَہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور انہیں نبی کریم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل تھا، وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ہر روز ایک نیا لباس یا حلہ زیب تن کرتا تھا جو دوسرے دن کے لباس سے مشابہ نہیں ہوتا تھا، یعنی وہ سال میں تین سو ساٹھ لباس بدلتا تھا اور وہ ایک ذمی (معاہدے کے تحت رہنے والا) تھا، پس سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ شخص طیش میں آ گیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے (گستاخی کی)، جس پر سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا، تب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”یہ لوگ تو ہمارے عہد و پیمان کی وجہ سے ہی ہم پر اطمینان رکھتے ہیں (اور ہم نے انہیں امان دی ہوئی ہے)“، تو سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے ان سے یہ معاہدہ ہرگز اس بنیاد پر نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے ہمیں اذیت دیں“۔