المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ هدر دَمِ مِنْ سَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أهل العهد باب: اہلِ عہد میں سے نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا خون رائیگاں ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : إِنَّ غَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتْ ، لَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَكَانَ يَلْبَسُ كُلَّ يَوْمٍ ثَوْبًا ، أَوْ قَالَ : حُلَّةً لَا تُشْبِهُ الْأُخْرَى ، يَلْبَسُ فِي السَّنَةِ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ ثَوْبًا ، وَكَانَ لَهُ عَهْدٌ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَغَضِبَ فَسَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهُ غَرَفَةُ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّهُمْ إِنَّمَا يَطْمَئِنُّونَ إِلَيْنَا لِلْعَهْدِ . قَالَ : مَا عَاهَدْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ .سیدنا غَرَفَہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور انہیں نبی کریم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل تھا، وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ہر روز ایک نیا لباس یا حلہ زیب تن کرتا تھا جو دوسرے دن کے لباس سے مشابہ نہیں ہوتا تھا، یعنی وہ سال میں تین سو ساٹھ لباس بدلتا تھا اور وہ ایک ذمی (معاہدے کے تحت رہنے والا) تھا، پس سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ شخص طیش میں آ گیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے (گستاخی کی)، جس پر سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا، تب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”یہ لوگ تو ہمارے عہد و پیمان کی وجہ سے ہی ہم پر اطمینان رکھتے ہیں (اور ہم نے انہیں امان دی ہوئی ہے)“، تو سیدنا غَرَفَہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے ان سے یہ معاہدہ ہرگز اس بنیاد پر نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے ہمیں اذیت دیں“۔