المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ هدر دَمِ مِنْ سَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أهل العهد باب: اہلِ عہد میں سے نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا خون رائیگاں ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أُتِيَ بِرَاهِبٍ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا يَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ سَمِعْتُهُ لَقَتَلْتُهُ ، إِنَّا لَمْ نُعْطِهِمُ الذِّمَّةَ لِيَسُبُّوا نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
2031 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرَّ بِرَاهِبٍ ... نَحْوَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک راہب کو لایا گیا اور ان سے عرض کی گئی کہ یہ شخص نبی کریم ﷺ کی شانِ مبارک میں گستاخی کرتا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں اسے (خود یہ کلمات کہتے ہوئے) سن لیتا تو اسے ضرور قتل کر دیتا، کیونکہ ہم نے انہیں اس لیے پناہ اور عہدِ ذمہ نہیں دیا کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کو برا بھلا کہیں۔“ نیز امام حارث نے بھی اپنی سند سے اسی کے مانند نقل کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ایک راہب کے پاس سے ہوا تھا؛ یہ روایت اپنی پہلی سند کے لحاظ سے ایک مبہم راوی کی موجودگی کی بنا پر منقطع ہے۔