المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ هدر دَمِ مِنْ سَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أهل العهد باب: اہلِ عہد میں سے نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والے کا خون رائیگاں ہونے کا بیان۔
( 88 ) فِيهِ حَدِيثٌ يَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى - فِي الْمَغَازِي فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، أَنَّ قَيْصَرَ بَعَثَ بِدَنَانِيرَ هَدِيَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا .اس باب میں ایک حدیثِ مبارکہ «إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى» ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا“ کتاب المغازی میں غزوہ تبوک کے بیان میں آئے گی کہ ”قیصرِ روم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بطورِ ہدیہ چند دینار بھیجے تو آپ ﷺ نے انہیں تقسیم فرما دیا۔“
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ذَاهِبُ الْبَصَرِ يَأْوِي إِلَى يَهُودِيَّةٍ ، وَكَانَتْ حَسَنَةَ الصَّنِيعِ إِلَيْهِ ، وَكَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَتْهُ . فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَفْعَلَ ، فَقَتَلَهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ إِلَيَّ صَنِيعًا ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تَسُبُّكَ إِذَا ذَكَرَتْكَ فَنَهَيْتُهَا ، فَأَبَتْ أَنْ تَفْعَلَ فَقَتَلْتُهَا ، فَأَطَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا .ابواسحاق ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا مسلمان شخص ایک یہودی خاتون کے پاس ٹھہرا ہوا تھا جو اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتی تھی، لیکن جب وہ نبی ﷺ کا تذکرہ کرتی تو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ اس شخص نے اسے اس (نازیبا حرکت) سے روکا مگر وہ باز نہ آئی، چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا، جب یہ معاملہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے بازپرس فرمائی، جس پر اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بے شک وہ میرے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والوں میں بہترین خاتون تھی، لیکن جب وہ آپ کا ذکر کرتی تو آپ ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی، میں نے اسے منع کیا مگر وہ باز نہ آئی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔