قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَجْلِدَ أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ ہرگز حلال نہیں کہ وہ (تعزیری طور پر) دس کوڑوں سے زیادہ مارے، سوائے اس صورت کے کہ جب یہ سزا اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے لیے ہو“۔
وَحَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، ثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ : أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الرُّومِ ، فَاقْتَتَلُوا فَضَرَبَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَلَاثَةَ أَسْوَاطٍ . ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی بکر بن الحارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چند غلام رومی علاقوں کی کسی بستی میں مقیم تھے، وہاں ان کے مابین باہمی لڑائی ہوگئی جس کی پاداش میں انہوں نے ان میں سے ہر ایک کو بطورِ تادیب تین تین کوڑے مارے، پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث بیان کی۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ یعنی قابلِ اعتماد ہیں۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ یعنی قابلِ اعتماد ہیں۔