المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ نفي أهل الريب والمعاصي مِنْ الْبُيُوتِ باب: بدکردار، مشکوک اور اہل معصیت کو گھروں سے نکال باہر کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَيْتَ عِنْدِي مَنْ رَآهَا وَمَنْ يُخْبِرُ عَنْهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ يُدْعَى هِيتٌ : أَنَا أَنْعَتُهَا لَكَ ، إِذَا أَقْبَلَتْ ، قُلْتَ : تَمْشِي عَلَى سِتٍّ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ قُلْتَ : تَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ . فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَى هَذَا مُنْكَرًا ، أُرَاهُ يَعْرِفُ أَمْرَ النِّسَاءِ . وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا - يَعْنِي عَلَى سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَفَاهُ ، وَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى إِمْرَةِ عُمَرَ ، وَكَانَ يُرَخِّصُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَتَصَدَّقُ .
1880 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .
1880 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : وَهَذَا يَعْرِفُ النِّسَاءَ ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : فَيَنْهَاهَا أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَيَتَصَدَّقُ كُلَّ جُمُعَةٍ .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سَعْدٍ إِلَّا ابْنُهُ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا مُجَاهِدٌ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا عِيسَى ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا بَكْرٌ ، وَلَا أَسْنَدَ مُجَاهِدٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ .سیدنا سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کاش! میرے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جس نے اسے دیکھا ہو اور وہ مجھے اس کے متعلق کچھ بتاتا، اس پر ہیت نامی ایک شخص نے کہا کہ میں تمہارے سامنے اس کا حلیہ بیان کرتا ہوں؛ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو (اپنے جسمانی حسن اور سلوٹوں کی وجہ سے) یوں لگتا ہے جیسے چھ تہوں کے ساتھ چل رہی ہو اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو چار تہوں والی معلوم ہوتی ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ شخص عورتوں کے (مخفی جسمانی) اوصاف سے بخوبی واقف ہے“، اور وہ شخص ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا جایا کرتا تھا، چنانچہ جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اسے (مدینہ سے) جلا وطن کر دیا اور وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت تک اسی حال میں رہا، البتہ اسے اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ جمعہ کے دن مدینہ میں داخل ہو کر صدقہ و خیرات طلب کر لیا کرے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس حدیث کو ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے نقل کیا ہے، نیز امام بزار نے اسے محمود بن بکر کی سند سے روایت کرتے ہوئے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس شخص کے اپنے پاس آنے سے منع فرما دیا تھا اور وہ ہر جمعہ کو صدقہ لینے آتا تھا، امام بزار فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو سیدنا سعد سے ان کے صاحبزادے عامر، ان سے مجاہد، ان سے عبد الکریم، ان سے ابن ابی لیلیٰ، ان سے عیسیٰ اور ان سے بکر کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کیا، نیز مجاہد کی عامر بن سعد سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور مسند حدیث ہمیں معلوم نہیں۔