المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ إسكات مِنْ تطاول عَلَى الْإِمَامِ باب: امام یا حاکمِ وقت کے ساتھ گستاخی اور زبان درازی کرنے والے کو خاموش کرانے کا بیان۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ : كَانَ بَيْنَ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْضُ الْأَمْرِ فَتَنَاوَلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ ، فَذَهَبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَتَكَلَّمُ ، فَكَبَّرَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَبَّرَ مَعَهُ النَّاسُ ، فَفَعَلَ بِهَا ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ لِكَيْلَا يُسْمَعَ كَلَامُهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ سَكَتَتْ .اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمان اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی معاملے پر کچھ رنجش پیدا ہو گئی اور ان دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف کچھ تلخ کلامی ہوئی، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے گفتگو کرنی چاہی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے «اللهُ أَكْبَرُ» (اللہ سب سے بڑا ہے) کہا اور ان کے ساتھ دیگر لوگوں نے بھی تکبیر بلند کی، انہوں نے دو مرتبہ ایسا اس ارادے سے کیا تاکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات لوگوں کو سنائی نہ دے سکے، چنانچہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ صورتحال ملاحظہ فرمائی تو وہ خاموش ہوگئیں۔