قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَتَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ ، ثُمَّ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ ، بَعْدَ ذَلِكَ مِرَارًا ، أَيُقْبَلُ مِنْهُ الْإِسْلَامُ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اقْبَلْ مِنْهُمْ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُمُ ، اعْرِضْ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَإِنْ قَبِلَ وَإِلَّا اضْرِبْ عُنُقَهُ .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب مکتوب روانہ کیا جس میں انہوں نے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے اسلام قبول کیا اور پھر کفر اختیار کر لیا، پھر دوبارہ اسلام لایا اور پھر کافر ہو گیا، اور اس نے تکرار کے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہی کیا۔ کیا (اب بھی) اس کا اسلام قبول کیا جائے گا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواباً تحریر فرمایا: ”ان لوگوں سے وہی چیز قبول کرو جو اللہ ان سے قبول فرماتا ہے؛ تم اس کے سامنے اسلام پیش کرو، پس اگر وہ اسے قبول کر لے (تو فبہا) ورنہ اس کی گردن اڑا دو۔“
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : ثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ ظِبْيَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَتَعْرِفُ الرَّجَّالَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ضِرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ ، وَكَانَ أَسْلَمَ ، ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِمُسَيْلِمَةَ ، وَقَالَ : كَبْشَانِ انْتَطَحَا فَأَحَبُّهُمَا إِلَيَّ أَنْ يَغْلِبَ كَبْشِي .
ترجمہ
امام حمیدی نے سفیان اور عمران بن ظبیان کے واسطے سے بنو حنیفہ کے ایک شخص سے روایت بیان کی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تم رجّال (بن عنفوہ) کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جہنم کی آگ میں اس (رجّال) کی داڑھ احد پہاڑ سے بھی زیادہ بڑی ہوگی“، راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص پہلے اسلام لایا تھا لیکن بعد ازاں مرتد ہو گیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ جا ملا، اور اس نے (قومی عصبیت میں) یہ کہا تھا کہ: دو مینڈھے آپس میں سینگ لڑا رہے ہیں، پس ان دونوں میں سے مجھے وہی زیادہ محبوب ہے جو غالب آ جائے یعنی میرا اپنا مینڈھا (مسیلمہ کذاب)۔
اس حدیث میں رجّال بن عنفوہ نامی اس بدبخت کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا ہے جس نے صحبتِ نبوی پانے کے باوجود فتنہ ارتداد کا ساتھ دیا اور مسیلمہ کی جھوٹی نبوت کی تصدیق کی، جس کے نتیجے میں اسے جہنم کے ہولناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔
اس حدیث میں رجّال بن عنفوہ نامی اس بدبخت کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا ہے جس نے صحبتِ نبوی پانے کے باوجود فتنہ ارتداد کا ساتھ دیا اور مسیلمہ کی جھوٹی نبوت کی تصدیق کی، جس کے نتیجے میں اسے جہنم کے ہولناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ - هُوَ الشَّعْبِيُّ - قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ ، قَامَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِأَلْفِ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ ، فَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَامَةِ ، قَالَ : وَكَانَ بَنُو عَامِرٍ قَدْ قَتَلُوا عُمَّالَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْرَقُوهُمْ بِالنَّارِ ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنِ اقْتُلْ بَنِي عَامِرٍ وَحَرِّقْهُمْ بِالنَّارِ ، فَفَعَلَ حَتَّى صَاحَتِ النِّسَاءُ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَاءِ ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ كَفَّ عَنْهُمْ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور (فتنہ ارتداد کے وقت) جو لوگ مرتد ہونے تھے وہ ہو گئے، تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ قبیلہ طے کے ایک ہزار افراد لے کر (حق کی حمایت میں) کھڑے ہو گئے؛ ادھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یمامہ کی مہم پر روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو عامر نے رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ عاملین کو قتل کر کے انہیں آگ میں جلا دیا تھا، جس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مکتوب لکھا کہ ”بنو عامر کے ان مجرموں کو قتل کرو اور انہیں آگ میں جلا دو۔“ آپ نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ ان کی عورتیں دہائیاں دینے لگیں، پھر آپ آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک گھاٹ پر پہنچے تو وہاں کے لوگ نکل کر سامنے آئے، آپ نے بلند آواز میں کہا «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے)، تو ان لوگوں نے پکار کر کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؛ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی زبان سے یہ کلماتِ شہادت سنے تو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے ہاتھ روک لیا۔