المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حُكْمِ المرتد باب: مرتد کے شرعی حکم کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَتَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ ، ثُمَّ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ ، بَعْدَ ذَلِكَ مِرَارًا ، أَيُقْبَلُ مِنْهُ الْإِسْلَامُ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اقْبَلْ مِنْهُمْ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُمُ ، اعْرِضْ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ ، فَإِنْ قَبِلَ وَإِلَّا اضْرِبْ عُنُقَهُ .سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب مکتوب روانہ کیا جس میں انہوں نے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے اسلام قبول کیا اور پھر کفر اختیار کر لیا، پھر دوبارہ اسلام لایا اور پھر کافر ہو گیا، اور اس نے تکرار کے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہی کیا۔ کیا (اب بھی) اس کا اسلام قبول کیا جائے گا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواباً تحریر فرمایا: ”ان لوگوں سے وہی چیز قبول کرو جو اللہ ان سے قبول فرماتا ہے؛ تم اس کے سامنے اسلام پیش کرو، پس اگر وہ اسے قبول کر لے (تو فبہا) ورنہ اس کی گردن اڑا دو۔“