❮
❯
حدیث نمبر: 1845
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ - هُوَ الشَّعْبِيُّ - قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ ، قَامَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِأَلْفِ رَجُلٍ مِنْ طَيِّئٍ ، فَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَامَةِ ، قَالَ : وَكَانَ بَنُو عَامِرٍ قَدْ قَتَلُوا عُمَّالَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْرَقُوهُمْ بِالنَّارِ ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنِ اقْتُلْ بَنِي عَامِرٍ وَحَرِّقْهُمْ بِالنَّارِ ، فَفَعَلَ حَتَّى صَاحَتِ النِّسَاءُ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَاءِ ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ كَفَّ عَنْهُمْ .
ترجمہ

امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور (فتنہ ارتداد کے وقت) جو لوگ مرتد ہونے تھے وہ ہو گئے، تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ قبیلہ طے کے ایک ہزار افراد لے کر (حق کی حمایت میں) کھڑے ہو گئے؛ ادھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یمامہ کی مہم پر روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو عامر نے رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ عاملین کو قتل کر کے انہیں آگ میں جلا دیا تھا، جس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مکتوب لکھا کہ ”بنو عامر کے ان مجرموں کو قتل کرو اور انہیں آگ میں جلا دو۔“ آپ نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ ان کی عورتیں دہائیاں دینے لگیں، پھر آپ آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک گھاٹ پر پہنچے تو وہاں کے لوگ نکل کر سامنے آئے، آپ نے بلند آواز میں کہا «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے)، تو ان لوگوں نے پکار کر کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؛ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی زبان سے یہ کلماتِ شہادت سنے تو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے ہاتھ روک لیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1845
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده ضعيف، لضعف مجالد ومدار الحديث عليه، والحديث مع هذا مرسل، كما نصّ على ذلك البوصيري في إتحاف الخيرة (3/ 140/ أ). »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7190، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4367»