المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ حُكْمِ المرتد باب: مرتد کے شرعی حکم کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : ثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ ظِبْيَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَتَعْرِفُ الرَّجَّالَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ضِرْسُهُ فِي النَّارِ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ ، وَكَانَ أَسْلَمَ ، ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِمُسَيْلِمَةَ ، وَقَالَ : كَبْشَانِ انْتَطَحَا فَأَحَبُّهُمَا إِلَيَّ أَنْ يَغْلِبَ كَبْشِي .امام حمیدی نے سفیان اور عمران بن ظبیان کے واسطے سے بنو حنیفہ کے ایک شخص سے روایت بیان کی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا تم رجّال (بن عنفوہ) کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جہنم کی آگ میں اس (رجّال) کی داڑھ احد پہاڑ سے بھی زیادہ بڑی ہوگی“، راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص پہلے اسلام لایا تھا لیکن بعد ازاں مرتد ہو گیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ جا ملا، اور اس نے (قومی عصبیت میں) یہ کہا تھا کہ: دو مینڈھے آپس میں سینگ لڑا رہے ہیں، پس ان دونوں میں سے مجھے وہی زیادہ محبوب ہے جو غالب آ جائے یعنی میرا اپنا مینڈھا (مسیلمہ کذاب)۔
اس حدیث میں رجّال بن عنفوہ نامی اس بدبخت کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا ہے جس نے صحبتِ نبوی پانے کے باوجود فتنہ ارتداد کا ساتھ دیا اور مسیلمہ کی جھوٹی نبوت کی تصدیق کی، جس کے نتیجے میں اسے جہنم کے ہولناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔