قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَارِبُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ الْوَثَنِ ، وَشَارِبُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شراب نوشی کرنے والا بت کے پجاری کی طرح ہے، اور شراب پینے والا (مشرکین کے بتوں) لات اور عزیٰ کی پرستش کرنے والے کی مانند ہے۔“
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا سَقَاهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
1809 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ... مِثْلَهُ .
1809 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ... مِثْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے بھی شراب نوشی کی، خواہ اس کی مقدار تھوڑی ہو یا زیادہ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جہنم کا کھولتا ہوا گرم پانی پلائے گا۔“
امام احمد بن منیع کی روایت کردہ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے۔
امام احمد بن منیع کی روایت کردہ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، مَوْلَى أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَقْبَلُ اللهُ لِشَارِبِ الْخَمْرِ صَلَاةً مَا دَامَ فِي جَسَدِهِ مِنْهَا شَيْءٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شراب پینے والے کی نماز اس وقت تک قبول نہیں فرماتا جب تک کہ اس کے جسم میں اس (شراب) کا کوئی بھی شائبہ یا اثر باقی رہے۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا هِقْلٌ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَوْبَتَهُ .
فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّانِيَةَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللهُ تَعَالَى تَوْبَتَهُ . فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ .
فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّانِيَةَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللهُ تَعَالَى تَوْبَتَهُ . فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ .
ترجمہ
سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے شراب پی تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی، پھر اگر وہ (اسی حالت میں) مر گیا تو وہ آگ (جہنم) میں جائے گا، اور اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔ پھر اگر اس نے دوسری مرتبہ شراب پی تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی، اگر وہ مر گیا تو جہنم میں جائے گا اور اگر اس نے توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔ لیکن اگر اس نے تیسری یا چوتھی مرتبہ (پھر وہی حرکت کی اور) شراب پی تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اسے «رَدْغَةُ الْخَبَالِ» (اہلِ جہنم کی پیپ اور پسینہ) پلائے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ «رَدْغَةُ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جہنمیوں کے جسموں کا نچوڑ (خون اور پیپ) ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
اسی مفہوم کی ایک روایت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ هُوَ أَبُو أَحْمَدَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، مَوْلَى أَبِي الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنَا ، وَلَا عَاقٌّ لِوَالِدَيْهِ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا مُدْمِنُ الْخَمْرِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلَاثُ سِنِينَ ، فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً .
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں نہ تو ولد الزنا (حرام کاری کی اولاد) داخل ہوگا، نہ والدین کا نافرمان اور نہ ہی شراب کا رسیا (عادی)۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! شراب کا رسیا (مدمنِ خمر) کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ جو تین سال تک (شراب پیتا رہے)، ہر سال میں ایک مرتبہ (ہی سہی)۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى ، ثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ ، ثَنَا أَبُو هُدْبَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ سَكْرَانُ أُدْخِلَ الْقَبْرَ سَكْرَانَ ، وَيُبْعَثُ مِنْ قَبْرِهِ سَكْرَانَ ، وَأُمِرَ بِهِ إِلَى النَّارِ سَكْرَانَ ، إِلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ : سَكْرَانُ ، فِيهِ عَيْنٌ يَجْرِي فِيهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ ، هُوَ طَعَامُهُمْ وَشَرَابُهُمْ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دنیا سے اس حال میں رخصت ہوا کہ وہ نشے میں دھت تھا، اسے قبر میں بھی اسی مدہوشی کے عالم میں داخل کیا جائے گا، وہ اپنی قبر سے بھی نشے کی کیفیت میں اٹھایا جائے گا اور اسے جہنم کے اس پہاڑ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا جسے ’سکران‘ (نشہ آور) کہا جاتا ہے، وہاں ایک ایسا چشمہ ہے جس میں پیپ اور خون بہتا ہے، وہی ان کا کھانا اور پینا ہوگا ﴿مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ﴾ (سورة هود: ۱۰۷) جب تک زمین و آسمان قائم رہیں۔“